ممتاز شخصیات

والد صاحب اور مولانا حكیم عبدالحكیم سنسارپوری رحمۃ اللہ علیہ

صوبہ اتر پردیش كے 75 اضلاع میں ضلع لكھیم پور جغرافیائی لحاظ سے سب سے بڑا ضلع مانا جاتا ہے۔ اسی ضلع كی تحصیل گولا ‏كوكرن ناتھ میں واقع قصبہ سنساپور علمی و دینی لحاظ سے ایك عظیم قصبے كی حثییت ركھتا ہے۔ اگر دینی بنیادوں پر مردم ‏شماری كی جائے تو شاید یہی وہ قصبہ ہوگا جہاں آبادی كے تناسب كے لحاظ سے سب سے زیادہ حافظ اور عالم پائے جاتے ہوں ‏گے۔ اور حفاظ كی اس بز م اور علما كی آماج گاہ كے پس پردہ جس صاحب كمال بزرگ كی كوششیں كارفرما ہیں انھیں لوگ ‏مولانا حكیم عبدالحكیم كے نام نامی سے جانتے ہیں.‏ 

انھیں بزرگ شخصیت كے صاحب زادے مولانا پروفیسر عبدالحلیم صاحب قاسمی نے اپنےوالد صاحب كی گراں قدر ‏خدمات پر ایك سوانحی كتاب مرتب كی ہے۔ تعمیر شخصیت میں رہبران قوم كے یہ سوانحی نقوش نسل نو كے لیے سنگ میل ‏اور شمع فروزاں كی حیثیت ركھتے ہیں۔ صاحب سوانح كے فیوض وبركات سے خاكسار اور خاكسار كے گھرانے كے جملہ ‏اركان بھی فیض یاب ہوئے ہیں اور مرتب ہمارے بڑے بھائی كےدرجے میں ہیں ان كا حكم تھا كہ والدمرحوم جناب حاجی ‏مظفر خان رسول پور ی اور حضرت مولانا حكیم عبدالحكیم صاحب قاسمی رحمتہ اللہ كے روابط و تعلقات پر كچھ تحریر كریں۔ ‏اب چوں كہ كتاب اپنی ترتیب كے آخری مرحلے میں ہے اور وقت كی رفتار تیز تر ہوتی جارہی ہے اس لیے والد صاحب كی ‏بیس پچیس سال كی شاگردانہ رفاقت پر مبنی زندگی كے جملہ واقعات تو درج ہونے سے رہے بس چند سطریں حاضر ہیں‏، ‏گوش گزار ہوں.‏ 

رسول پور اورگرد ونواح كے تقریبا ایك درجن گاؤوں میں آباد میواتی قوم كے افراد انجام سے بے پرواہ نزاعات كے لیے مشہور تھے . دین ‏سے وابستگی تو تھی لیكن نت نئی بدعات اور بد عقیدہ رسومات كی حدتك۔ تعزیے بڑی دھوم سے منائے جاتے تھے.سید سالار مسعود ‏غازی كا جھنڈا بھی بڑے شوق سے اٹھایا جاتا تھا۔اللہ بھلا كریں لكھنؤ كے حضرت مولانا عبدالسلام صاحب فاروقی كا كہ انھیں اس خطے كی ‏بددینی كا خیال آیا اور انھوں نے تبلیغی اسفار كیے. داداجان چوں كہ علاقے كے معزز اور نمبردار تھے اس لیے حضرت فاروقی كا وردو مسعود ‏بھی ہمارے ہی غربت كدے پر ہوا كرتا تھا۔ یہ انھیں كی صالحیت اور نیك نیتی كا اثر تھا كہ ہمارے والد صاحب رفتہ رفتہ ان خرافات سے ‏باز آتے چلے گئے جنھیں وہ كبھی دین كے نام پرخدائی اجر و ثواب كی نیت سے انجام دیا كرتے تھے۔ پھر دیوبند كے مدنی خانوادے سے ربط ‏ہوا اور علم اور اہل علم كی محبت ہمارے والد صاحب كے قلب و جگر میں پیوست ہوتی چلی گئی. اور پھر تو یوں ہوا كہ جہاں انھیں دینی جھلك ‏نظر آئی وہیں آنكھیں فرش كردیں. محمدی كے صدیقی خانوادے سے روابط بھی بس انھیں دینی بنیادوں كی وجہ سے مضبوط ہوتے چلے ‏گئے. اللہ نے جب اولاد سے نوازا تو بہت سے اعزا و اقربا كی ناگواری كے باوجود اسكولوں میں تعلیم نہ دلاكر مدرسوں میں دین كی باتیں ‏سكھائیں. دین كا یہی وہ جذبہ تھا جو انھیں ہر دین دار كی عزت اور تكریم كے لیے مجبور كرتا تھا ۔دینی مسائل سے رہنمائی كے لیے اللہ رب ‏العزت نے حضرت مولانا حكیم نظام الحق صدیقی كو وجود بخشا ہوا تھا بس وہی ان كے مرجع تھے اور مصدر جب بھی كوئی دینی و سماجی مسئلہ ‏پیش آیا تو انھیں سے رجوع كیا اور كام بن گیا۔ حكیم صاحب كی ایك مخصوص انجمن تھی جس كے كچھ مخصوص اركان تھے فارغ اوقات ‏میں حكیم صاحب پوری انجمن كو لے كر یا توكسی ركن كے گھر پہنچ جایا كرتے تھے اور یا پوری انجمن كو خود اپنے یہاں مدعو كرلیا ‏كرتےتھے۔ اس انجمن كے ایك اہم ركن سنسارپورسے تعلق ركھنے والے حضرت مولانا حكیم عبدالحكیم صاحب تھےانجمن كی ایك ‏نششت ہمارے والد صاحب كے لیے بھی تھی۔مولانا عبدالحكیم صاحب سے تعارف اسی انجمن كی ركنیت كا نتیجہ رہا ہوگا۔ مولانا بھی چوں ‏كہ حكیم نظام الحق صاحب كا پرتو تھے اس لیے والد صاحب كے دل میں ان كا بھی وہی احترام تھا جو اصل منبع كا تھا۔ والد صاحب مولانا ‏مرحوم كی بہت عزت كیا كرتے تھے اور بلاوقفہ ملاقات كی كوشش كیا كرتے تھے۔مولانا مرحوم بھی تھے جو رسول پور كبھی حضرت ‏حكیم صاحب كی معیت میں اور كبھی تنہا بغرض ملاقات آتےرہتے تھے۔ ان جملہ اہل علم كی آمد پر ہمارے گھر میں عید كا سماں بندھ جاتا تھا ‏۔ امی جان چوں كہ شاہ آباد كی ہیں اس لیے نہ صرف طرح طرح كے كھانے بنانے كا شوق ركھتی ہیں بلكہ میزبانی كے بھی جملہ طریقوں اور ‏سلیقوں میں مہارت ركھتی ہیں. اس لیے فورا چولھا سلگنے لگتا تھا اور خاطر مدارات كے لیے برتن مہمان كی آمد كے گیت گانے لگتے تھے۔ ‏ہمیں نہیں معلوم كہ مولانا مرحوم كتنی بار رسول پور تشریف لائے اور خانوادہ اور اہل قریہ كو اپنی دینی باتوں كا فیض پہنچایا اور كیایہ بھی ‏كوئی شمار كرسكتا ہے۔

 ‏ مدرسوں كی تعلیم كا ایك خاصہ یہ بھی ہے كہ ہر طالب علم ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ كر سماجی اور معاشرتی مفادات پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔ ‏اسی رجحان كا نتیجہ تھا كہ مولانا مرحوم بھی اپنے سماج اور معاشرے كی اصلاح اور فلاح و بہبود كے لیے حددرجہ محنت كیا كرتے تھے ۔ ‏مولانا مرحوم كی دین كی بقا اور اسلامی احكام كے تحفظ كے لیے كی جانے والی انھیں جملہ كاوشوں میں سےایك كاوش كا تعلق قضیہ قربانی ‏سے بھی ہے۔ 

‏ ‏ ملك عزیزكے فرقہ وارانہ ماحول میں قربانی كا معاملہ اپنے اندر نہایت حساسیت اور مذہبی گرم جوشی ركھتا ہے ۔ایك فرقہ اپنا واجب اداكرتا ‏ہے اور دوسرااپنی دھارمك آستھاؤں كی رچھا كرتا ہے۔ ایسے میں جس طرح ہمارے گاؤں میں قربانی كی اجازت كا سہرا ہمارے والد ‏صاحب كے سر بندھتا ہے بعینہ اسی طرح قصبہ سنسار پور میں اس اجازت كا سہرا مولانا مرحوم كے سر بندھتا ہے۔ قربانی كی اس اجازت ‏كے لیے انھوں نے بقدر استطاعت مجاہدانہ كوششیں كیں جن كے لیے انھیں پولیس كے مظالم بھی سہنا پڑے اورگھر سے دور روپوش بھی ‏ہونا پڑا. والدہ بتلاتی ہیں كہ روپوشی كے ان ایام میں مولانا مرحوم كا قیام رسول پور ہی میں تھا۔ مولانا كمرے میں رہا كرتے تھے لوگوں ‏سے ملنا جلنا بھی بس نہ كے برابر تھا ۔راز داری كا پورا نظم تھا۔ تقریبا پندرہ روز تك مولانا مرحوم یہاںمقیم رہے اور والد صاحب اپنی ‏استطاعت بھر مولانا كی خدمت كرتے رہے۔ پھر جب حالات میں قدرے سدھار آیا اور محمدی سے صدر انجمن كا اشارہ مل گیا تو مولانا ‏مرحوم اپنے اہل خانہ كے پاس واپس چلے گئے.‏ 

ہمارے والد صاحب بھی سنسار پور جایا كرتے تھے ۔ہماری والدہ اور بہنیں بھی مولانا مرحوم كے یہاں سنسار پور گئیں ہیں. ہم سب ‏بھائیوں كا بھی مولانا مرحوم كے جملہ صاحب زادگان سے ربط برقرار ہے‏، آنا جانا ہے اور ٹیلی فونك گفت و شنید بھی ۔ہمارے والد صاحب ‏نے ہم جملہ بھائیوں كے لیے گھر سے دور جو گھر تعمیر كیےہیں ان میں ایك گھرسنسا ر پور میں بھی ہے۔ جہاں جاكر وہی اپنا پن اور وہی سكن ‏محسوس ہوتا ہے جو كسی مسافر كو اپنے گھر پہنچ كر محسوس ہوتا ہے۔والد صاحب كے ذریعہ دینی بینادوں پر استوار كیا جانے والا یہ رشتہ ابھی ‏تك برقرار رہے اور جب تك دونوں خانوداوں میں دینی جھلك باقی رہے گی اور دین كی شمع جلتی رہے گی قرآن و سنت كے یہ پروانے بھی ‏باہم ملتے رہیں گے۔ اللہ ر ب العزت سے دعا ہے كہ مولانا مرحوم كی مغفرت فرمائیں اور جنت الفردوس میں محمدی كی اس پوری انجمن كی ‏ركنیت بحال ركھیں اور ہم تمام دینی بھائیوں كو ایك دوسرے سے مربوط ركھیں.‏

 

عبدالملك رسول پوری 

اسسٹینٹ پروفیسر شعبہ عربی دہلی یونیورسٹی ‏،دہلی

‏ ‏2020-12-27