ملحقہ مکاتب
مدرسہ انوارالعلوم
موضع رسول پور
مدرسہ تفہیم القرآن
موضع نودیا نوازپور
مدرسہ تفہیم القرآن
صفحہ ابھی زیر ترتیب ہے
مدرسہ انوار العلوم
شاخ ادارہ محمودیہ قصبہ محمدی
ادارہ محمودیہ كی سب سے اہم شاخ قصبہ محمدی سے 9كلو میٹر كی دوری پر واقع موضع رسول پور میں مدرسہ انوارالعلوم ہے۔جہاں ادارہ محمودیہ سے قبل جہالت وبدعات كی گھٹاٹوپ اندھیری چھائی ہوئی تھی۔ رسول پور اور قرب وجوار كی بستیوں كے لوگ بدعات و خرافات كے ساتھ ساتھ طرح طرح كے مشركانہ رسم ورواج كے دلدل میں پھنسے ہوئے تھے۔ ایسے حالات میں اللہ تعالی نے رسول پور پر بے پایاں احسان فرماتے ہوئے ادارہ محمودیہ كے بانی حضرت مولانا حكیم رمضان الحق صاحب نور اللہ مرقدہ كو نیابت نبوت كے لیے منتخب فرماكر اہل بستی كی طرف متوجہ فرمایا ؛ چناں چہ حضرت حكیم صاحب كی محنت سے اولا مولوی شریف صاحب ؒ نے دین اسلام كی صحیح رہنمائی كے لیے جد وجہد كی۔بعدہ حضرت حكیم صاحب كی بے پناہ فكرمندی اور دور رس نگاہوں نے بستی كے نمبر دار بھائی خاں صاحب كے چھوٹے فرزند حاجی مظفر خاں صاحب كی روحانی پرورش كی اور اپنی روحانی توجہ فرماكر علاقہ رسول پور كے لیے اشاعت دین كی فكریں حاجی مظفر خاں صاحب كی طرف منتقل فرمائیں۔ حاجی صاحبؒ نے اپنے والد محترم بھائی خاں صاحب كو ترغیب دے كر ان كے باغ كے چھوٹےسے حصہ میں مدرسہ انورالعلوم كی بنیاد ركھی جس كے اول واضع سنگ بنیاد حضرت امام اہل سنت والجماعت حضرت مولانا عبدالشكور صاحبؒ كے جانشین حضرت مولانا حكیم نظام الحقصاحبؒ كے ایماء پر قاری صبیح الدین صاحبؒ نے باضابطہ 1964ء میں فدائے ملت حضرت مولاناسیداسعد مدنی نوراللہ مرقدہ سابق صدر جمعیۃ علماء ہند دست مبارك سے بنیاد ركھی گئی۔ حضرت مولانا حكیم نظام الحق صاحب كے حكم پر محمد پور سے حافظ نعمت الہ صاحب كو مبلغ 10 روپے ماہ وار مشاہرہ پر مدرسہ انوار العلوم كے سب سے پہلے مدرس كے طور لایا گیا۔كافی عرصے تك 10 روپیہ ماہانہ جناب بھائی خاں مرحوم اپنی جیب سے اداكرتے رہے۔ حضرت حاجی مظفر خاں صاحب پور تندہی اور لگن كے ساتھ حضرت مولانا حكیم نظام الحق صاحب اور حضرت مولانا امام علی دانش رحمہما اللہ تعالی كی سر پرستی میں مدرسہ انوارالعلوم كی خدمت انجام دیتے رہے۔اور فقط مسجد ومدرسہ كی خدمت كی لگن اور دھن كی وجہ سے وسط بستی میں اپنے آبائی مكان كو خیر باد كہہ كر بستی كے كنارے مسجد ومدرسہ سے متصل گھر بناكر مدرسے كے ذریعہ پورے علاقے میں بڑی مخلصانہ خدمات انجام دیتے رہے۔انتقال سے پہلے وصیت فرماگئے كہ مدرسے كا خیال ركھنا۔ مدرسہ انوارالعلوم میں دینیات درجہ اطفال سے پرائمری درجات پنجم، درجہ حفظ نیز ابتدائی عربی و فارسی كی تعلیم دی جاتی ہے۔ ماشاء اللہ مدرسہ انوارالعلوم اپنے قیام سے اب تك استقامت كے ساتھ اہل بستی كے تعاون سے ادارہ محمودیہ كی سرپرستی میں دینی كاز پر گامزن ہے اور اب تك اس چھوٹے سے مدرسہ كے ذریعہ سینكڑوں علماء و حفاظ تیار ہوچكے ہیں۔ جو پورے علاقے اور ملك كے مختلف حصوں میں بلكہ بیرون ملك بھی دینی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ باری تعالی اس مدرسے كو تادیر قائم و دائم فرمائے
عبید اللہ خالد قاسمی
صدر مدرس مدرسہ انوارالعلوم