تعارف
ضلع لكھیم پور كھیری اور قرب وجوار كے اضلاع :سیتاپور،شاہ جہاں پور، ہردوئی وغیرہ جہالت و بے دینی كی تاریكی میں غرق تھے۔یہاں كے باشندے غیر شرعی بدعات ورسومات میں ملوث تھے۔اللہ رب العزت نے اس سرزمین پر اپنا فضل فرمایا كہ 1883ء كے متبرك ماہ رمضان میں عارف باللہ حضرت مولانا حكیم رمضان الحق نور اللہ مرقدہ ،یہاں پیدا ہوئے۔انھوں نے اپنے والدین محترمین كے زیر سایہ پرورش پاتے ہوئے عصری تعلیم میں مڈل كلاس تك تعلیم حاصل كی۔اس كے بعد علوم دینیہ حاصل كرنے كا جذبہ بیدار ہوا، پاس پڑوس كوئی مدرسہ نہیں تھا؛چناں چہ دارالعلوم دیوبند ضلع سہارن پور جانے كا ارادہ فرمایا۔گھر والوں كو علوم دینیہ كے حصول سے كوئی خاص دلچسپی نہیں تھی؛ اس لیے گھر والوں كی كوئی تائید حاصل نہ ہوسكی؛لیكن پھر بھی آپ اللہ پر بھروسہ ركھتے ہوئے گھر سے نكل پڑے،كچھ پیسے پاس تھے،شاہ جہاں پور پہنچ كر ٹكٹ خریدا اور دارالعلوم پہنچ گئے،وہاں مہتم صاحب سے ملاقات كرنے پر معلوم ہوا كہ بیچ سال میں داخلہ نہیں ہوپائے گا، یہ سن كر آپ مایوس ہوگئے،آپ كے چہرے سے پریشانی كے آثار نمایاں تھے، تو مہتم صاحب كے تشریف فرما ایك بزرگ نے فرمایا كہ حضرت اس بچے كا داخلہ بلاكسی ضابطے كے لے لیجیے؛كیوں كہ مجھے اس كی پیشانی سے ظاہر ہوتا ہے كہ یہ مستقبل میں كوئی بڑادینی كام كرے گا۔ ان بزرگ كی سفارش پر داخلہ ہوگیا، آپ پوری محنت ولگن سے علوم دینیہ كے حصول میں مصروف ہوگئے۔بالآخر وہ دن بھی آگیا كہ آپ نے دارالعلوم دیوبند سے فراغت حاصل كی اور آپ ایك باكمال عالم بن كر اپنے وطن تشریف لائے۔آپ اپنے علاقے كے پہلے عالم تھے اس كے بعد آپ نے بریلی میں فن طب میں مہارت حاصل كی اور اپنے اساتذہ كرام كے ایماپر طبیہ كالج دارالعلوم دیوبند میں پرنسپل كی حیثیت سے خدمت انجام دینے لگے؛لیكن علاقے كی بے دینی اور جہالت وگمراہی سے مسلسل پریشان رہتے بالآخر جب پریشانی اور بے چینی حد سے بڑھی تو اپنے اساتذہ سے اجازت لے كروہاں كی ملازمت چھوڑدی اور اپنے وطن قصبہ محمدی تشریف لے آئے۔یہاں پر انفرادی اور اجتماعی طور پر لوگوںن تك دین كی باتیں پہنچانے كا سلسلہ شروع فرمایا ۔قرب وجوار كے دیہاتوں میں جا جا كر لوگوں میں دینی بیداری پیداكرنے كو اپنا مشغلہ بنالیا۔اللہ رب العزت نے آپ كو اس علاقے كی اصلاح كے لیے قبول فرمایا،رفتہ رفتہ دین نبوی كے اس پاور ہاؤس سے چاروں طرف روشنی پھیلنے لگی۔ایك عرصہ تك عارف اللہ حكیم رمضان الحق اسی طرح بلا كسی دنیوی طمع ولالچ كے اپنے مشن كو آگے بڑھانے میں مصروف رہے۔عسرت وتنگی كازمانہ تھا، سواریاں نہیں تھیں،راستے بھی نہیں تھے؛لیكن آپ ایسی بے سروسامانی كے عالم میں بھی اصلاح كے جذبہ كو لیے ہوئے گاؤں گاؤں،بستی بستی لوگوں سے مل كر دین كی باتیں كرتے۔باہر سے علما ے كرام كو بلاكر ان كی تقریر كرواتے؛چناں چہ حضرت مدنیؒ آپ كی دعوت پر تین مرتبہ محمدی تشریف لائے، اس كے علاوہ نامور علماے كرام متعدد بار آپ كی دعوت پر تشریف لائے، آپ كو یہی فكر رہتی كہ كس طرح ہمارے علاقے میں دین حق كی روشنی پھیلے، لوگ جہالت سے نكل كر علم دین كی روشنی میں منور ہوں۔اور خواہش تھی كہ زیادہ سے زیادہ علما و حفاظ بن جائیں۔ آپ نے اپنے بچوں كو عالم بنایا اور ان كے اندر خدمت دین كا جذبہ پیدا كیا؛چناں چہ آپ كے بڑے بیٹے حضرت مولانا نظام الحق صاحب عرف نوشے میاں صاحبؒ نے اپنے والد بزرگوار كے مشن كو آگے بڑھامیں میں عمدہ خدمات انجام دیں۔
ادارہ محمودیہ كا قیام
بانی ادارہ محمودیہ حضرت مولانا حكیم رمضان الحق نے اپنی اخیر عمر میں مشفق استاذ شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی كے اسم گرامی كی نسبت پر ادارہ محمودیہ قایم فرمایا،جس كی سنگ بنیاد شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ سے ركھوائی۔یہ اس علاقے كا پہلا مدرسہ ہے۔ مدرسے كی بنیاد ركھنے كے بعد بجوں كا چندہ كرنا شروع كیا،گاؤں گاؤں جاكر لوگوں كی ذہن سازی یك كہ وہ اپنے بچوں كو دینی تعلیم كے حصول كے لیے میرے ساتھ محمدی بھیج دیں؛ چناں چہ حضرت مولانا امام علی صاحب دانش (جو كہ اس ادارے كی تقریبا 40 سال صدر مدرس رہے) وہ خود فرماتے ہیں كہ میں مدرسہ رئیس العلوم رائے پور میں اپنے استاذ محترم كو میزان الصرف سنارہا تھا كہ اچانك ایك بزرگ كا نورانی چہرہ نمودار ہوا، نووارد بزرگ نے آتے ہی سلام مصافحہ كے بعد ہم بچوں كی تعلیم كا جائزہ لیا پھر فرمایا كہ ان كو میرے پاس بھیج دو، عالم بنادوں گا(ان شاء اللہ)۔ چند دنوں كے بعد میرے استاذ نے واقعی مجھے محمدی بھیج دیا اور فرمایا كہ وہ آنے والے بہت بڑے عالم ہیں۔مبتع سنت بزرگ ہیں۔ ان كی زبان مبارك سے نكلی ہوئی بات اللہ پوری كرے گا؛ چناں چہ ایسا ہی ہوا ۔وہ آنے والے بزرگ حضرت مولانا حكیم رمضان الحق صاحب تھے۔