اباجان: حضرت مولاناذكی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ
ہمارے ابا (حضرت مولانا ذکی اللہ صاحب رحمة اللہ علیہ سابق صدرالمدرسین ادارہ محمودیہ محمدی) کا مختصر تعارف۔ والد محترم حضرت مولانا ذکی اللہ صاحب رحمة اللہ علیہ جن کی پوری زندگی قربانیوں سے بھری ہوئ ہے ۔ یقینا آپ کے حالات زندگی اور تعلیمی سفر نامہ اور قربانیوں سے بہت سارے لوگوں کو ضرور حوصلہ ملے گا اس لئے مختصر تعارف اور حالات زندگی پر مختصرا لکھنے کا اردہ کیا ہے اس امید کے ساتھ کہ اللہ تعالی اس کو اختتام تک پہونچادے۔ اگر کسی کے ساتھ کوئ خاص واقعہ پیش آیا ہو تو ضرور اس سے مطلع فر مائیں تاکہ خاص واقعات کو بھی شامل کیا جا سکے۔ ولادت آپ کی پیدائش ایسے خاندان میں ہوئ جہاں ہر طرح کے رسم و رواج اور جہالت ہی جہالت تھی ، اسلام کی بنیادی تعلیمات سے نا ولد پورا خاندان تھا اور معاشی تنگی کیوجہ تہذیب و تمدن سے کوسوں دور تھے۔ جہاں صوم و صلوة کا تصور نہیں تھا ۔ بس ایک دو مہینہ میں میلاد کراکے بتاشے تقسیم کر دینے کو کامل دین سمجھا جاتا تھا اور اسی پر مسلمان ہونے کا فخر کیا جاتا تھا۔ اسی جہالت زدہ علاقہ موضع پرسڑیا پوسٹ اذان تحصیل گولا ضلع لکھیم پور کھیری یوپی میں والد محترم حضرت مولانا ذکی اللہ صاحب رحمة اللہ علیہ کی ولادت ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ہوئ۔ دادا نے آپ کی پرورش بڑے ہی پیار ومحبت سے کی اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ابا بھائ بہنوں میں سب سے چھوٹے تھے اور بھائ بہنوں کے بہت لاڈلے تھے۔ آپ پانچ بھائ تھے ان میں سے تین بڑے بھائ نا خواندہ تھے جبکہ ایک بھائ جو والد محترم سے بڑے ہیں وہ اسکول میں پرائمری کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ ایسے ناخواندہ خاندان کا تصور آج کے اس ترقی یافتہ زمانہ یقینا تعجب سے کم نہیں ہوگا۔ ایسی جہالت و تاریکی میں آنکھ کھو لنے والے اور اسی ماحول میں پرورش پانے والے کادینی تعلیمات کے حصول کے لئے انتخاب یقینا منجانب اللہ تھا اور دینی تعلیم سے آراستہ ہونے کے بعد اپنی پوری زندگی کو شریعت کے مطابق اس طرح گزارنا کہ اپنی خواہشات کو شریعت کے تابع کردینا یہ بھی سادگی، اخلاص اور اللہ کا برگزیدہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ ابتدائ عصری علوم حاصل کرنے کے لئے موضوع اذان میں داخلہ کرادیا گیا جو تقریبا گاوُں سے تین کلو میٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کے لئے روزانہ پیدل آمدو رفت شروع ہوگئ اور اسی طرح آٹھویں کلاس تک مسلسل تگ و دو جاری رہی۔ پرائمری تعلیم میں ان تمام پریشانیوں کا سا منا کرنا پڑا جو ایک غیر تعلیم یافتہ گھرانہ میں بچوں کو پیش آتی ہیں اس کے باوجود تعلیم جاری رکھنا اور امتیازی نمبرات سے کامیابی حاصل کرنا یقینا ذہانت کی علامت ہے۔ یہی وجہ تھی کہ والد محترم کو ہندی ، انگریزی اور ریاضی سے کافی واقفیت تھی۔ حساب کے میدان میں ان کی جمع و تقسیم، جوڑ اور گھٹانا کلکو لیٹر سے تیز چلتا تھا۔ اپنی انگلیوں کے اشارے سے پیچیدہ سے پیچیدہ حساب کی گتھیوں کو مسکرا کر اور پل بھر میں حل کر دیا کرتے تھے۔ دینی تعلیم کا آغاز خود کو مسلمان اور اسلامی شعار کو برقرار رکھنے والی روایت میلاد کے لئے کسی مولوی صاحب کو مدعو کیا لیکن مولوی صاحب کسی وجہ سے میلاد پڑھنے کے لئے حاضر نہ ہو سکے اور مشہور مقولہ کہ رحمت خداوندی بہانا می جوئد صادق آیا۔ دادا کو اس بات کی تکلیف ہوئ اور اسی وقت یہ ارادہ کر لیا کہ اپنے چھوٹے بیٹے حضرت مولانا ذکی اللہ صاحب رحمة اللہ علیہ کو جو ابھی کم سنی کی عمر میں تھے دین کی تعلیم دلاکر مولوی بنائیں گے تاکہ میلاد کے لئے کسی مولوی کو مدعو نہ کرنا پڑے۔ اسی مقصد سے ابا کا داخلہ بلہری میں کرا دیا جہاں مولوی ارشاد صاحب بلہری ابا کے سب سے پہلے استاذ ہوئے۔ بلہری کی مسافت پر سڑیا سے تقریبا تین کلو میٹر ہے ،روزانہ تحصیل علم کے لئے پیدل صبح کو جانا اور شام میں واپس آنا کا سلسلہ شروع ہوگیا اور اس طرح قرآن ناظرہ اور اردو کی ابتدائ کتابیں مولوی ارشاد صاحب مرحوم بلہری سے پڑھیں۔ قرآن ناظرہ اور اردو کی بنیادی تعلیم کے بعد فارسی کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے رائپور گنسی کا رخ کیا جس کی دوری پرسڑیاسے تقریبا چھ کلو میٹر ہے اور مولوی غلام حسین عارف صاحب مرحوم سے فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ والد محترم کی دینی تعلیم سے رغبت اور روازنہ کی حاضری سے شیطان کو ضرور پریشانی ہورہی ہوگی چونکہ ایسے خاندان میں کسی کا دینی تعلیم حاصل کرنے کا مطلب پورے خاندان کو کلمہ، نماز اور شریعت کی تعلیمات سے روشناس ہونا طے تھا اس لئے شیطان نے والد محترم کو بہکانے کی کوشش کی اور چند ایام کے لئے اپنی تعلیم کو موقوف کردیا ۔ اللہ تعالی غریق رحمت کرے والد محترم کے استاذ مولوی غلام حسین عارف کو جنہوں نے طلبہ کو ابا کو بلانے کے لئے روانہ کیا جس میں مولانا مظہر الحق صاحب استازذ ادارہ محمودیہ اور مولانا شریف صاحب سہروابھی شامل تھے۔ جس وقت یہ احباب گاوُں میں پہونچے اس وقت والد محترم کھیت میں کسانوں کی طرح کام میں مشغول تھے۔ ابا کا کہانا تھا کہ ساتھیوں اور اپنی حلیہ کو دیکھ کر اس وقت بہت شرمندگی ہوئ ۔ ساتھیوں کے اصرار پر والد محترم گویا ہوئے کہ ہم اپنے ساتھیوں سے پیچھے ہوجائیں گے چونکہ کافی وقفہ گذر گیا ہے۔ اس وقت کے دوست بھی حقیقی دوست اور خیر خواہ ہوا کرتے تھے انہوں نے یہ کہتے ہوئے ابا کو تعلیم پر آمادہ کرلیا کہ تم کو پیچھے نہیں ہونے دیں گے ہم خود پیچھے ہوجائیں گے۔ والد محترم رائپور گھنسی جانے کے لئے آمادہ ہوگئے اور دوستوں کی بے پایاں محنتیں اور استاذ محترم کے پیار اور شفقت، دوبارہ تعلیم شروع کرنے کا ذریعہ بنا۔ فارسی کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد استاذ محترم کی اجازت سے ادارہ محمودیہ محمدی کا رخ کیا اور حضرت مولانا امام علی دانش رحمة اللہ علیہ سے اکثر کتابیں پڑھیں۔ دینی تعلیم کے اثرات آہستہ آہستہ پورے خاندان پر مرتب ہونے لگے اور والد محترم جو بھی پڑھتے اس کو اہل خانہ کے سامنے بیان کرتے اور پورا خاندان اس پر عمل کرنے کی کوشش میں لگ جا تا۔ بہت قلیل عرصہ میں غیر اسلامی رسم و رواج کا خاتمہ شروع ہوگیا اور دین سے رغبت شروع ہوتی گئ، صوم و صلوة کا اہتمام شروع ہو گیا اور دین کی شمع کی چنگاری رفتہ رفتہ خاندان کے ہر ہر فرد کے دل میں گھر کرتی چلی گئ۔ آپ کے بھائیوں نے تعلیم میں مکمل تعاون کیا اور سب سے چھوٹے ہونے کے باوجود علم کی نسبت کی بنیاد پر قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا اور خاندان کے ہر معاملہ میں حکم کی حیثیت بخشی اور دینی اور داخلی امور میں آپ کی ہر بات کو حرف آخر سمجھا۔ والد محترم کی فطرت میں دین اور شریعت کے وقعت قلب میں اس طرح رسوخ کر گئ تھی کہ کبھی بھی حب مال اور حب جاہ کا خواب اپنے دل میں نہیں سجایا۔ ہمیشہ تنگ دستی کی زندگی گزاری لیکن اس کے باوجود بھی قناعت ، صبر اور حوصلہ سے کام لیا۔
مولانا عبد الجلیل قاسمی رسول پوری دامت فیوضہم حیات وخدمات
از قلم: مولانامدثر رسول پوری
عربی ضرب المثل ہے کہ “خیر الاشتغال تھذیب الأطفال” بہترین مصروفیت و مشغلہ بچوں کی تعلیم و تربیت کرنا ہے۔
یقیناً قابل رشک ہیں، وہ شخصیتیں جنھیں پاک پروردگار نے اپنے خاص فضل و کرم سے یہ موقع عنایت کیا، انھیں فہرستوں میں ایک نام مولانا عبد الجلیل صاحب قاسمی رسول پوری سابق استاذ مدرسہ عربیہ ادارہ محمودیہ محمدی کا بھی ہے، اللہ تعالی نے مولانا موصوف کو من جملہ خوبیوں کے تعلیمی اور تدریسی صلاحیت سے نوازا ہے، آپ کے شاگردوں کے بقول : آپ ایک مثالی استاذ کی حیثیت رکھتے ہیں۔
شاگرد ہیں ہم میر سے استاد کے راسخٓ
استادوں کا استاد ہے استاد ہمارا
نام و نسب،وطن اور ولادت
آپ کا اسم گرامی عبدالجلیل، والد محترم کا نام جمعہ خان مرحوم اور دادا کا نام جگمال خان مرحوم ہے۔موضع رسول پور، ڈاکخانہ امیرنگر، تھانہ محمدی، تحصیل گولا گوکرناتھ، ضلع لکھیم پور کھیری اور صوبہ اترپردیش آپ کا وطن اصلی ہے، اسی گاؤں رسول پور میں ۱۵/ستمبر۱۹۶۵ء مطابق ۱۸جمادی الاول ۱۳۸۵ھ کو آپ کی پیدائش ہوئی۔
تعلیم و تربیت
آپ کی ابتدائی تعلیم ناظرہ قرآن، اور دینیات آبائی گاؤں کے “مدرسہ انوارالعلوم ” ہی میں ہوئی، ہندی زبان اور حساب و کتاب کی تعلیم گاؤں کے ہی پراتھمک اسکول میں حاصل کی۔اس کے بعد پھر دوبارہ مدرسہ انوارالعلوم میں داخل ہوکر حفظِ قرآن پاک کی تکمیل فرمائی۔ آپ کے تحفیظ القرآن کے استاذ علاقہ کی مشہور شخصیت، صاحبِ نسبت بزرگ، خادم القرآن حضرت حافظ نعمت اللہ شاہ نابینا نور اللہ مرقدہ ہیں۔اس کے بعد علم و عمل اور تبلیغ کے مرکز،علاقے کی مشہور و معروف درسگاہ مدرسہ عربیہ ادارہ محمودیہ محمدی میں داخلہ لے کر فارسی وعربی کے ابتدائی چار سالہ نصاب کی تکمیل فرمائی۔ فارسی و عربی کے ابتدائی درجات میں جن عبقری شخصیات سے آپ نے اکتساب فیض کیا ہے ان میں نمایاں طور پر حضرت مولانا حکیم نظام الحق عرف نوشے میاں صاحب نور اللہ مرقدہ، حضرت مولانا امام علی دانش قدس سرہ، حضرت مولانا ذکی اللہ صاحب رحمہ اللہ مولانا مبارک علی مرحوم، قاری مجتبیٰ صاحب لکھنوی مرحوم اورحضرت قاری فرید صاحب استاذ مدرسہ شاہی مرادآباد وغیرہم کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
مدرسہ ھذا کے سبھی اساتذہ کرام آپ کی ذہانت اور حصول علم میں محنت و جفاکشی، مطالعہ کتب بینی اور اسباق کی پابندی کی وجہ سے بے حد محبت کرتے تھے ۔ اور آپ کے قلب و جگر میں بھی ان سبھی اساتذہ کی عظمت اور ادب واحترام پنہاں تھا۔عربی کا مقولہ ہے”الادب شجر والعلم ثمر ثم فکیف یجدون الثمر بدون الشجر” (ادب درخت ہے اور علم پھل ہے پھر بغیر درخت کے پھل کیسے حاصل ہوسکتا ہے) ۔
دارالعلوم دیوبند میں داخلہ
سن ۱۹۸۲ء میں سال پنجم عربی میں آپ نے دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا اور محنت و جفا کشی اور اسباق میں پابندی، تعلیمی سرگرمیوں میں انہماک کے ساتھ ساتھ طلبہ ضلع لکھیم پور کی انجمن تحسین الکلام کی صدارت کا فریضہ بھی انجام دیا اور مدنی دار المطالعہ سے بھی وابستگی رہی۔۱۹۸۶ءآپ کا دورۂ حدیث شریف کا سال ہے، گویا ۱۴۰۶ھ دورۂ حدیث شریف کی کتابیں پڑھ کر آپ دارالعلوم دیوبند کے فارغ التحصیل قرار دئے گئے۔
دارالعلوم دیوبند میں آ پ كے اساتذہ
جن اساطینِ علم وفضل اور نابغۂ روزگار شخصیات کے سامنے آپ نے زانوئے تلمذ تہہ کیا ان کے اسماء گرامی اس طرح ہیں: حضرت مولانا شیخ نصیر احمد خان صاحب نور اللہ مرقدہ، حضرت مولانا شیخ عبدالحق صاحب اعظمی نور اللہ مرقدہ، حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوریؒ حضرت مولانا محمد حسین صاحب عرف ملا بہاری رحمہ اللہ، حضرت مولانا عبد الرؤف افغانی ، حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب مدظلہ العالی، حضرت مولانا نعمت اللہ صاحب مدظلہ العالی، حضرت مولانا قمر الدین گورکھپوری مدظلہ العالی، حضرت مولانا ریاست علی صاحب بجنوری رحمہ اللہ، حضرت مولانا سید قاری محمد عثمان صاحب منصورپوری نور اللہ مرقدہ، حضرت مولانا عبد الخالق صاحب سنبھلی رحمہ اللہ، حضرت مولانا عبد الخالق مدراسی مدظلہ العالی، حضرت مولانا مجیب اللہ صاحب گونڈوی مدظلہ العالی ان کے علاوہ بعض دیگر اساتذہ کرام سے بھی آپ نے کسب فیض کیا ہے مثلاً قاری عبد الحفیظ صاحب رحمہ اللہ وغیرہم۔
تدریسی سلسلے کا آغاز
دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد اپنے وطن واپس آکر اپنے بڑوں کی ایماءپر گھر سے قریب واقع موضع امیٹھی کے مدرسہ ضیاء القرآن سے تدریسی خدمات کا آغاز فرمایا، کچھ عرصہ موضع سسورہ ناصر میں بھی قیام رہا۔
مدرسہ عربیہ ادارہ محمودیہ محمدی میں آپ كا تقرر
چ ند سالوں پر محیط تدریسی زندگی گزارنے کے بعد آپ کا تقرر علاقہ کی عظیم دینی درسگاہ “مدرسہ عربیہ ادارہ محمودیہ محمدی” میں عمل میں آیا۔ادارہ میں آپ نے تقریباً چھ سال ۱۹۸۹ء سے ۱۹۹۵ء تک اپنی زندگی کے قیمتی لمحات گزارے اور علوم نبوت کا فیضان جاری رکھا، یہاں کی علمی فضا میں ایک کامیاب ، مثالی اور با فیض استاذ کی حیثیت سے آپ کا شہرہ ہوا، مختلف علوم وفنون کی کتابیں زیرِ درس رہیں، جو کچھ اس طرح ہیں: عقیدۃ الطحاوی، الفیۃ الحدیث، مشکاۃ الآثار، مقامات، تعلیم المتعلم، نفحۃ العرب، نور الایضاح، ھدایۃ النحو، مرقات، مالابدمنہ، پنج گنج، کبری، بوستاں، نحو میر، شرح مأۃ عامل ، میزان الصرف وغیرہ۔
تدریسی فرائض کے ساتھ ساتھ امامت اور دارالاقامہ میں طلبہ کی نگرانی آپ سے وابستہ تھی، جس کو آپ نے مکمل خوش اسلوبی کے ساتھ نبھایا۔دارالاقامہ کی نگرانی میں طلبہ کی شکایات کا ازالہ کرنا اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا، بیمار طلبہ کے علاج و معالجہ کی فکر کرنا آپ کے معمولات میں شامل تھا۔
تزکیہ و سلوک
آپ نے اصلاح نفس اور تزئین اخلاق کے لیے محی السنہ حضرت اقدس سید شاہ ابرارالحق صاحب نور اللہ مرقدہ کے خلیفہ حضرت مولانا قاری عبدالرؤف صاحب قدس سرہ سابق نائب ناظم مدرسہ اشرف المدارس ہردوئی کے دستِ حق پرست پر بیعت فرمائی، آپ کے تلقین کردہ اوراد و وظائف پر پابندی سے عمل پیرا رہ کر سلوک و معرفت کی تکمیل فرمائ اور خرقۂ خلافت سے سرفراز ہوۓ۔
حرمین شریفین کی حاضری
آپ نے پہلا حج سن۲۰۰۷ء میں کیا ہے، اللھم زد فزد یہ مبارک سفر گاؤں کے ہی تقریباً آٹھ افراد پر مشتمل تھا۔ نور علی نور ؛ شاہینِ جمعیۃ حضرت مولاناقاری احمد عبداللہ صاحب قاسمی مدظلہ العالی سکریٹری “جمعیۃ یوتھ کلب” جمعیۃ علماء ہند اپنی والدہ ماجدہ کے ہمراہ اس قافلے میں شامل تھے۔
ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خداۓ بخشندہ
ازدواجی زندگی
آپ کا نکاح علاقہ کی معروف شخصیت، علماء حق سے تعلق و محبت رکھنے والے، محترم جناب حاجی بابو خان مرحوم کی تیسرے نمبر کی صاحبزادی سے ہوا ہے، آپ کے دو بیٹے (مولانا فیض الرحمن قاسمی و مولوی طہ سلمھما) اور ایک بیٹی ( صوبیہ سلمھا) ہیں، دو کی شادی ہوگئیں ماشاءاللہ دونوں صاحب اولاد ہیں،اور چھوٹے صاحب زادے طہ سلمہ مدرسہ شاہی مرادآباد میں زیر تعلیم ہیں۔
تین بچے ابتداۓ عمر میں ہی پروردگار کو پیارے ہوگئے تھے۔
حالیہ سرگرمیاں
اب آپ ایک عرصے سے اپنے آبائی گاؤں میں ہی قیام پذیر ہیں، علاقہ کی دینی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے کافی تگ و دو کرتے ہیں، آپ مقامی جمعیۃ علماء رسول پور کے صدر ہیں اور اس پلیٹ فارم سے ایک روح رواں کی حیثیت سے مسلسل دینی و ملی خدمات انجام دے رہے ہیں، نیز: ضلعی جمعیۃ علماء لکھیم پور کے معاون جنرل سیکریٹری اور مدرسہ عربیہ ادارہ محمودیہ محمدی کی مجلس شوریٰ کے رکن اساسی ہیں۔ آپ جس ذمہ داری کو قبول کرتے ہیں، اس کی انجام دہی کی تکمیل میں ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔
ذریعہ معاش
آپ اپنے آبائی پیشہ زراعت سے وابستہ ہیں اور اس کےساتھ ساتھ گاؤں میں ہی عطا کلاتھ ہاؤس اینڈ جنرل اسٹور کے نام سے ایک دکان بھی ہے ۔ ان کاموں میں آپ کے بڑے صاحبزادے زادے مولانا فیض الرحمن قاسمی سلمہ آپ کےمعاون ہیں۔رب ذوالجلال سے دعا ہے کہ پوری صحت و تندرستی اور عافیت کے ساتھ آپ کے علم و فضل اور فکر و نظر کی قندیلیں تا دیر روشن رہیں اور دونوں جہاں کی سرخ روئی آپ کا مقدر ہو۔ آمین ثم آمین
تونے وہ گنج ہائے گرانمایہ کیا کیے
توصیف خان دہلی یونیورسٹی
شوال کا مہینہ تھا، مولانا سے میری پہلی ملاقات اپنے ددّا (والد) کے ہمراہ مسجد کے وضو خانہ پر ہوئی ، میرے ددّا نے فضیل کے نانا کا حوالہ دیا، مولانا کہنے لگے بس گاؤں کا نام ہی کافی ہے، سب کٹیا والے میرے سالے ہیں ، پھر میری طرف مخاطب ہوکے بولے “آج سے میں تمہارا ڈبلیکیٹ باپ ہوں” مولانا کے مزاج میں بڑا بالغ مزاح تھا، دیہی جملے بول کر بات میں مزاح پیدا کرتے، ہمیشہ بولتے تھے “ جتنے کالے سب باپ کے سالے” فارسی کہاوت “ ہم چوں ما دیگرے نیست “ کی جگہ “ ڈنگرے نیست” بولتے تھے، جو ان کے منہ سے بہت بھلا معلوم ہوتا تھا، حضرت مولانا کی علمی استعداد ، افہام و تفہیم ، تنظیمی صلاحیتیں ، بلا کی معاملہ فہمی ، مزاج کی سادگی، طلباء کی حوصلہ افزائی ، ان سے محبت ، ادارہ کے تئیں اخلاص ، عصری علوم سے آگاہی، خاص کر ہندی / سنسکرت الفاظ اور ریاضی پر دسترس تھی،گھر میں بچوں کے ساتھ بڑا دوستانہ ماحول تھا۔
مولانا کو انیس سے بہت گہرا لگاؤ تھا، فارسی کا یہ شعر :” من نہ آنستم کہ روز جنگ بینی پشت من ۔آں منم کاندرمیان خاک و خوں بینی سرے”
پڑھکر بڑے پر امید نظر آتے تھے ، سیکڑوں فارسی کے اشعار یاد تھے، گلستاں ، بوستاں تو حفظ تھیں ، ہم نے اور فضیل نے مولانا سے باقاعدہ فارسی پڑھی ، چہارم اور پنجم کی جماعتوں کے درمیان پندرہ منٹ کا وقفہ ملتا تھا، اسی وقفہ میں فارسی کا دو سالہ کورس چند مہینوں میں مکمل کرا دیا، بس پندرہ منٹ پڑھکر ہم اور فضیل قلعہ کا رخ کرتے ، قلعہ ان دنوں کرکٹ کا لاڈس ( مکہ) تھا، قلعہ کے آف سائڈ میں ایک دیوار تھی ، جس پر happy لکھا ہوا تھا، میں نے اس کو ہپو پڑھا ، ان دنوں قلعہ پر ہپو نامی کرکٹر کا بہت چرچا تھا، میں نے سمجھا اسی کا نام لکھا ہوگا، فضیل بولا “ ہپو نہیں ہپی ہے” ہم دونوں میں بہت تکرار ہوئی، آخر فیصلہ مولانا کے پاس پہنچا ، بولے “ نہ ہپو ہے اور نہ ہپی بلکہ ہیپی ہے، سسرو دونوں غلط ہو، اس طرح مولانا نے ہمارے درمیان مصالحت کی، بعد میں جب انگلش کی کچھ شد بد ہوئی تو پتا چلا کہ فضیل صحیح تھا، بس مولانا نے ایک بیچ کا راستہ نکال دیا تھا، “ پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ”
سال ختم ہونے پر جب ہم دونوں فارسی کا امتحان دینے بڑے مولی صاحب کے پاس گئے، تو انہوں نے ایک پرچہ لکھ کر فضیل کو پکڑا دیا “ ہردو طالب علم کو سال اوّل میں داخلہ دیا جائے” پھر باقاعدہ دفتر میں آکر سب اساتذہ کے سامنے مولانا کی بہت تعریف کی کہ “ اس طرح فارسی پڑھائی جاتی ہے” ، مولانا کے درس و تدریس کے سبھی قائل تھے، میں نے ادارہ سے لیکر دارلعلوم ( وقف) تک بہت سے اساتذہ سے استفادہ کیا، مگر اس قدر خوبصورت افہام و تفہیم کسی میں نہیں پائی، صلاحیت سے الگ افہام و تفہیم باقاعدہ ایک زیورِ فن ہے ، جس سے مولانا غایت درجہ آراستہ تھے،
ادارہ میں تین سال گزارے ، صرف ایک مرتبہ اسٹیج پر تقریر کرتے دیکھا، فیضان کے گھر کے بائیں طرف مقابل میں ایک گلی ہے اس میں تھوڑا سا آگے بڑھو ، گھروں کے درمیان تقریباً دو سو گز جگہ ہے، وہاں ایک چھوٹا سا اجتماع تھا جس میں مولانا نے تقریر کی تھی، تقریر میں بڑی سادگی تھی، وہی درس والا انداز ، غیر لچھے دار، عام بول چال کی غیر مترادف لفظیات، چیخ پکار سے مبرا، اتار چڑھاؤ سے بے نیاز ، ایسا نہیں کہ مولانا کے پاس لفظیات کی کمی تھی، جو شخص اتنی اچھی فارسی جانتا ہو، اس کے پاس لفظیات و تراکیب کی کمی ہوہی نہیں سکتی، مگر مولانا کے مزاج میں خواجگی نام کی کوئی چیز نہیں تھی، کبھی مولانا کو ایسا کرتا پہنے نہیں دیکھا جس کا دامن ٹخنوں سے باتیں کررہا ہو، اور نہ ایسا پائجامہ جو گھٹنوں کی طرف گھور رہا ہو، کرتا گھٹنے سے دو یاتین انچ فزوں تر اور پائجامہ ٹخنے سے محض آدھا انچ فراز، داڑھی کو بہت سلیقے سے سنوار کر بالکل گول رکھتے تھے، کسی سرکش بال نے گولائی بھنگ کرنے کی کوشش کی تو وہ انجام کو پہنچا، درمیانہ قد ، چال میں شریفانہ رچاؤ، پیٹ کا نام و نشان تک نہیں تھا، سرتا پیر متوازن ، بہت طاقتورتھے، ایک دو بار پیٹھ پر بایاں ہاتھ کھایا ہے، ذرا زور سے پڑ گیا تھا، یقین مانو بالکل ٹیڑھا ہوگیا، لاٹھی چلانا بہت اچھے سے جانتے تھے،۔
ہم طلباء ڈر سے زیادہ عزت کرتے تھے، مدارس میں سوال کرنا اور اساتذہ کے سامنے بغیر زبان لڑکھڑائے بولنا بے ادبی سمجھا جاتا ہے، مگر حیرت یہ کہ مولانا کے سامنے دارلاقامہ کے سبھی لڑکے بولتے تھے اپنی بات رکھتے تھے، ہم لوگ سوال کرتے تھے، وہ خندہ پیشانی سے سنتے اور جواب دیتے تھے، کئی لڑکوں کی بہت “ بجھی” لگاتے، جب مسجد میں فجر کے بعد حاضری لیتے تو شکیل کھانڈے پور کا جیسے ہی نام آتا “ کھانڈے “ کا تلفظ منہ بھر کرکے خود بہت زور سے ہنستے اور پوچھتے “کل قہاں تھے” شکیل جواب دیتا” عبد السلام حافج جی کے گیہوں پسانے گئے تھے” مولانا کہتے “ ڈیلو منہ پھیلو “ ہم سب بھی زور سے ہنس دیتے، جب ناصر ، انصار ، عبدالہادی نودیا معین ، فاروق اور معین الدین کا نام آتا تو اسی طرح کا گدگدا ماحول ہوجاتا ، اور جب مدثر رسول پوری کا نام آتا تو کہتے “ یہ سسرا پڑا سو رہا ہوگا” منہ نچوے کا زمانہ تھا، بس لڑکے چھت پر لیٹے تھے کہ فاروق نے اپنی لحنِ داؤد میں رونا شروع کردیا، ( فاروق ناک سے بولتا/روتا/ قرات کرتا تھا، )ہم سب پہلے سے ہی ڈرے ہوئے تھے، اور ڈر گئے ایک قسم کی بھگدڑ مچ گئی، مولانا بنیان اور چوخانہ دار سفید لنگی پہنے ہاتھ میں لاٹھی لیکے آئے ، سب کو چپ کیا، ادھر ادھر دیکھا ، پتا چلا دو بلی لڑگئیں تھیں، فاروق کی بہت بجھی لگائی، اور یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ ہم بیٹھک کی کھڑکی سے دیکھ رہے ہیں، ابھی ایک ہی گھنٹہ گزرا کہ سب نیچے چیخنے لگے، مولانا پھر آگئے ۔۔۔۔ جنید سنسار پوری جو اکثر فجر کی نماز بھی پڑھاتا تھا کہنے لگا میں نے ابھی لکڑیوں پر منہ نچوا اترتے دیکھا ہے، ادھر اسلام الدین بولے کہ میری طرف چھپٹا بھی تھا، اب ہم سب ڈرے سہمے کھڑے تھے، مولانا نے کہا “ دکھاؤ کہاں ہے ؟؟؟ وہ دور سے لکڑیوں کی طرف اشارہ کررہا ہے، جی وہاں “ مولانا وہاں گئے ، دیکھا، دو چار لکڑیا ہٹائیں، وہاں ایک جگنو چمک رہا ہے، مولانا نے جنید اور اسلام الدین کو پاس بلا کرکافی کھنچائی کی، اور بہت رات تک ہم سب کو ہنساتے رہے، موصوف بآسانی طلباء کے معاملات حل کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے، کیونک وہ طلباء کی نفسیات سے بہت اچھی طرح سے واقف تھے،۔ حبِ مال و جاہ سے ایک طرح کی بے فکری، بہت تھوڑی سی محض تنخواہ پر نہ صرف گھر چلایا بلکہ سبھی بچے پڑھے بھی، یقیناً کئی بار پریشانیاں بھی آئی ہونگی، نمود و نمائش سے پاک “ نہ ستائش کی تمنا نہ صلہ کی پروا” بس اپنے کام سے کام، قلندرانہ صفت کے حامل سیدھے سادے مخلص انسان، ۔
اپریل کے مہینہ کا آخری ہفتہ تھا، ہم دونوں میسور سے آئے ہوئے تھے، میں فضیل سے ملنے محمدی گیا، یہاں مولانا سے میری آخری ملاقات تھی ، ساتھ کھانا کھایا، بہت ساری ہنسی مزاق کی باتیں ہوئیں، مجھے دو دن بعد میسور جانا تھا جب کہ فضیل کو دہلی میں جماعتِ اسلامی کی ایک ورکشاپ اٹینڈ کرنی تھی، میں میسور فضیل سے پہلے آگیا، تقریباً دس دنوں کے بعد فضیل میسور پہنچا، ٹکٹ ری گریٹ ہونے کی وجہ سے فضیل نے میسور تک جنرل بوگی سے سفر کیا تھا، یہ میسور اس وقت پہنچا جب ہم روم لاک کرکے فجر کی نماز پڑھانے گئے ہوئے ، فضیل ہاسٹل کی مسجد میں امام تھا اس کی عدم موجودگی میں نماز میرے ذمہ تھی، اس نے اپنا سامان واچمیں( ماموں ) کے روم میں رکھا اور وہیں آرام کرنے لگا، میں نماز سے فارغ ہوکر جب نکلا تو ماموں نے خبر دی کہ “ فضل آگیا ہے ، اور میرے روم میں سورہا ہے” وہ فضیل کو ہمیشہ فضل کہتا تھا، میں روم کی طرف تیزی سے بڑھا ابھی کچھ قدم ہی چلا ہونگا کہ اچانگ تابش کا فون آگیا “ مولانا کا انتقال ہوگیا ہے اور فضیل کو مت بتانا” میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ، سر چکرا رہا تھا اعصاب شل ہوئے جا رہے تھے میں نے پاس کھڑے ایک ناریل کے پیڑ کا سہارا لیا اور بیٹھ گیا، تھوڑی دیر تک یوں ہی ساکت و صامت بیٹھا رہا، تبھی جنید کا فون آگیا کہ فضیل کو موت کے بجائے سخت علالت بول کر گھر بھیج دو، میں اٹھ گھڑا ہوا، میرے اداس ذہن میں کئی سوالات متصادم تھے، ایک کشمکش تھی، فضیل سے کس طرح جھوٹ بولونگا ؟؟ کیا میں اپنے چہرے کے تآثرات چھپا سکوںگا؟؟ اگر سچ اس پر ظاہر ہوگیا تو اس پر کیا گزرے گی ؟؟؟ فضیل تک بیس قدم کا وقفہ طے کرنا میرے لئے کسی حشر سامانی سے کم نہیں تھا۔۔۔۔۔